شیخ احمد بن محمد صوفی رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں جنگل میں تیرہ ماہ تک حیران پریشان پھرتا رہا- میرے بدن کی خال بھی چھل گئ- میں اسی میں مدینہ طیبہ حاضر ہوااور روضۂ اقدس پہ حاضر ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں اور حضرات شیخین رضی الله عنہم کی خدمت میں سلام عرض کیا- اس کے بعد میں سو گیا میں نے حضور ﷺ کی خواب میں زیارت کی؛ ارشاد فرمایا احمد تم آئے؛میں نے عرض کیا جی حضور حاضر ہوا ہوں اور میں بھوکا بھی ہوں- آپ کا مہمان ہوں؛ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دونوں ہاتھ کھولو میں نے دونوں ہاتھ کھول دۓ- حضور ﷺ نے ان کو دراہم سے بھر دیا میری جب آنکھ کھلی تو دونوں ہاتھ دراہم سے بھرے ہوۓ تھے- میں نے اسی وقت روٹی فالودہ خریدا اورکھا کر جنگل چل دیا(وفاء
Comments
Post a Comment