بخارا کا ایک حاکم بڑا بہت سخت ظالم تھا ایک دن وہ اپنی سواری پر چلا جا رہا تھا راستہ میں ایک کتا نظر پڑا جسکے خارش ہو رہی
تھی اور سردی نے اسکو ستا رکھا تھا اس ظالم کی اس پر نگاہ پڑتے ہی آنکھوں میں آنسو بھر آیے اور اپنے ایک نوکر سے کہا کہ اس کتے کو میرے گھر لیجا میرے آنے تک اسکا خیال رکھیو اور یہ کہکر وہ اپنے کام جہاں جا رہا تھا چلا گیا جب واپس آیا تو اس کتے کو منگایا اور گھر کے ایک کونہ میں اسکو بندھوا دیا اسکے سامنے ٹکڑا ڈالا پانی رکھوایا اور اسکے بدن پر تیل ملوا کر ایک کپڑے کی جھول اسکے اوپر ڈلوائ-اسکے قریب آگ رکھوائی تاکہ اسکی گرمی سے اس پر سے سردی کا اثر زائل ہوجاے اس قصہ کو دو ہی دن گزرے تھے کہ اس ظالم کا انتقال ہو گیا ایک بزرگ نے اس کے مظالم اور اسکی حالت سے خوب واقف تھے اسکو خواب میں دیکھا اسنے پوچھا کہ کیا گزری اس نے کہا حق تعالیٰ شانہ نے مجھے اپنے سامنے کھڑا کیا اور فرمایا کہ تو کتا تھا(یعنی کتوں جیسے کام کرتا تھا انسانوں جیسے کام نہیں کرتا تھا) اسلیے ہم نے بھی ایک کتے ہی کو تجھکو دے دیا (یعنی اس خارشی کتے کے طفیل تیری بخشش کر دی) اور میرے ذمہ جو حقوق تھے ان کا خودادا فرمانے کا ارادہ فرمایا- حق تعالیٰ شانہ کی ذات بڑی کریم ہے وہ سارے کریموں کا مالک ہے بادشاہ ہے اسکے کرم تک کوئی کہاں پہنچ سکتا ہے کسی شخص کی کوئی ادنی سی چیز بھی اسکو پسند آجاۓ تو اس شخص کا بیڑا پار ہے -آدمی اسکی خشنودی کی تلاش میں رہے نہ معلوم کس کی کیا بات آقا کو پسند آجاۓ-
Comments
Post a Comment