حضرت منکدر رحمۃاللہ علیہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور اپنی سخت حاجت کا اظہار کیا- انہوں نے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس بلکل کچھ نہیں ہے اگر میرے پاس دس ہزار دینار بھی ہوتے تو سب کے سب تمہیں دے دیتی؛ مگر اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے؛ وہ واپس چلے گئے-تھوڑی دیر بعد خالد بن اسد رضی الله عنہ کے پاس سے دس ہزار کا ہدیہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس پہونچا- فرمانے لگیں کہ میری بات کا بہت جلد امتحان لیا گیا جب ہی حضرت منکدر رحمۃاللہ علیہ کے پاس ایک ادمی بھیجا اور انکو بلا کر ساری رقم انکے حوالے کر دی جس میں سے ایک ہزار میں، انہوں نے ایک باندی خریدی جس کے پیٹ سے تین لڑکے پیدا ہوۓ- محمد؛ ابوبکر؛ عمر؛ تینوں مدینہ منورہ کے عابد شمار ہوتے تھے- کیا ان تینوں کی عبادت میں حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا حصہ نہ ہو گا کہ وہی انکے وجود کا سبب ہوئیں۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی سخاوت کے واقعات ان کے اباجان رضی الله عنہ کی طرح سے احاطہ سے باہر ہیں- ایک اور واقعہ حکایت صحابہ رضی الله؛ عنہ میں آتا ہے کہ دو گونیں دراہم کی بانٹیں اور یہ بھی یاد نہ ایا کہ میرا روزہ ہے اور افطار کے لیے ایک درہم کا گوشت ہی منگا لوں؛ ان دونوں گونوں میں ایک لاکھ سے زیادہ درہم تھے اور اسی قسم کا ایک اور قصہ بھی میں روایت میں ہے جس میں ایک لاکھ اسی ہزار درم بتایے جاتے ہیں- تمیم بن عروہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ اپنے والد کی خالہ، حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے ستر ہزار درم تقسیم کئے اور وہ خود پیوند لگا ہوا کرتہ پہین رہی تھی-
Comments
Post a Comment