ایک بزرگ مکہ مکرمہ میں ۷۰ستر برس رہے اور برابر حج عمرہ کرتے رہے لیکن جب وہ حج یا عمرہ کا احرام باندھتے اور لبیک کہتے تو جواب میں لا لبیک ملتا ایک مرتبہ ایک نوجوان نے ان کے ساتھ ہی احرام باندھا اور انکو جب لا لبیک کا جواب ملا تو اس نے بھی سنا؛ تو وہ کہنے لگا چچا جان آپ کو تو لا لبیک کہا؛ کہنے لگے بیٹا تونے بھی سنا؟ اس نے کہا میں نے بھی سنا ہے- اس پر شیخ روۓ اور کہنے لگے بیٹا میں تو ستر برس سے یہی جواب سنتا ہوں جوان نے کہا پھر آپ کیوں اتی مشقت ہمیشہ اٹھاتے ہیں؟ شیخ نے کہا بیٹا اسکے سوا ارو کونسا دروازہ ہے جسکو پکڑوں اور اس کے سوا کون میرا ہے جس کے پاس جاؤں میرا کام تو کوشش ہے وہ چاہے رد کرے یا قبول کارے- بیٹا غلام کو یہ زیبا نہیں دیتا کہ وہ اتنی سی بات کی وجہ سے آقا کے در کو چھوڑ دے- یہ کہ کر شیخ رو پڑے حتی کہ آنسو سینے تک بہنے لگے اس کے بعد جب پھر لبیک کہی تو جوان نے سنا کہ جواب میں کہا گیا کہ ہم نے تیری، پکار کو قبول کر لیا اور ہم ایسا ہی کرتے ہیں ہر ایک شخص کے ساتھ جو ہمارے ساتھ حسن ظن رکھتا بخلاف اس کے جو اپنی خواہشات کا اتباع کرے اور ہم پر امیدیں باندھے؛ جوان نے جب سنا تو کہنے لگا چچا تم نے بھی یہ جواب سنا؟ شیخ نے یہ کہکر کہ میں نے بھی سن لیا اتے روۓ کہ چیخیں نکل گئیں-
Comments
Post a Comment